منگلورو 19؍نومبر (ایس او نیوز) پولیس کی چوکسی اور امتناعی احکامات کے باوجود الال او ر اس کے مضافات سے روز انہ کسی نہ کسی ناخوشگوار واقعہ کی اطلاع موصول ہورہی ہے۔
الال پولیس کے مطابق تازہ ترین واقعہ میں جمعہ کی شام کو اپنے مدرسہ سے گھر کی طرف جاتے ہوئے محمد اسد نامی ایک 12سالہ لڑکے پر دو شرپسندوں نے حملہ کیا جس سے اس کے ہاتھ پر معمولی زخم آئے ہیں۔چھٹی جماعت میں زیر تعلیم اسکولی بچے پر یہ حملہ کینیا کراس پر ماروتی وین میں آنے والے کچھ نامعلوم لوگوں نے کیا ہے۔مبینہ طور پر ان لوگوں نے پہلے تو بچے کو کھینچ کر کار میں اغوا کرنے کی کوشش کی مگر سامنے سے موٹر بائک کو آتے دیکھ کر بچے کے ہاتھ پر بلیڈ سے خراشیں لگانے کے بعد یونہی چھوڑ کر فرار ہوگئے۔کوناجے پولیس اسٹیشن میں معاملہ درج کرلیا گیا ہے۔
اسی دوران منگلورو دورے پر آئے ہوئے وزیر اعلیٰ سدارامیا نے الال میں پیش آنے والے تشدد کے واقعات کے پس منظر میں کہا ہے کہ فرقہ وارانہ بد امنی پھیلانے والوں کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی کی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ" ہم نے پہلے ہی پولیس کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ جو لوگ فرقہ وارانہ امن و امان کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کے ساتھ سختی سے پیش آئے۔ ان فرقہ پرست غنڈوں کو بخشا نہیں جائے گا۔ہم ان کے خلاف سخت ترین کارروائی کریں گے۔"